بھارت نے چینی پروفیشنلز کے لیے بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنا شروع کر دیے
سرکاری رکاوٹیں ختم، تعلقات میں بہتری اور صنعتوں کو اربوں ڈالر کے نقصان سے بچانے کی کوشش
بھارت نے چینی شہریوں کے لیے بزنس ویزوں کا عمل تیز کرنے کے لیے سرکاری اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث بھارتی صنعتوں کو پہنچنے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
■ ایک ماہ سے کم وقت میں بزنس ویزوں کا اجرا
حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزا منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ ختم کر دیا ہے، جس کے بعد اب بزنس ویزے چار ہفتوں سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔
سرکاری اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
■ 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد سختیاں
2020 میں ہمالیائی سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے بیشتر دوروں پر پابندی لگا دی تھی اور بزنس ویزوں کی جانچ سخت کر دی تھی۔
ایک اہلکار کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ویزوں سے متعلق تمام مسائل “مکمل طور پر حل” ہو چکے ہیں۔
■ چین کا مثبت ردِ عمل
بھارت کی جانب سے اقدام کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ قدم دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ترجمان گُو جیاکُن کے مطابق چین بھارت کے ساتھ رابطے اور تبادلوں میں مزید آسانی کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔
بھارتی صنعتوں کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو گزشتہ چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ چین سے آنے والی اہم مشینری بروقت نہیں پہنچ سکی۔
چینی کمپنیوں—جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے—کے عملے کو ویزے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جس سے الیکٹرانکس اور شمسی توانائی کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے۔
مودی کا چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی طرف قدم
سرکاری رکاوٹیں ختم کرنے کا اعلان وزیرِ اعظم نریندر مودی کے چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر بات چیت کی۔
اسی سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان 2020 سے معطل براہ راست پروازیں بھی حال ہی میں بحال ہو چکی ہیں۔
یہ سفارش ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
بھارتی صنعت کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم
انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا:
“سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا عمل تیز کرنا تعاون کی علامت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ہماری سفارشات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔”
ان کے مطابق بھارت اس وقت تیار شدہ مصنوعات سے لے کر پرزہ جات تک کی مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے، اور یہ اقدام اس عمل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
---
امریکہ کی پالیسی کے بعد بھارت کا سفارتی رخ بدلنا
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے:
بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس
اور روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی ٹیکس
عائد کر دیا۔
اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی میں ردوبدل کیا، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس کے ساتھ تعاون بڑھایا اور امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کی مذاکراتی کوششیں جاری رکھیں۔
بھارتی حکومت نے حال ہی میں کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں بھی نرمی کی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
ایک حکومتی اہلکار کے مطابق:
“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”







0 comments:
Post a Comment